تعلیمِ نسواں Written by Tanzeel
یوں تو تعلیم و تربیت کی ضرورت ہر دور میں محسوس کی جاتی رہی ہے ۔ دورَ جدید کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کی ضرور ت اہمیت اور افادیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ۔ آج دنیا جس برق رفتاری سے ترقّی کی منزلیں طے کر رہی ہے اس سے اہلِ علم بخوبی واقف ہیں ۔ نئے نئے علوم کے ساتھ ہی تحقیق و تدوین کا کام بھی اس قدر تیز رفتاری سے جاری ہے کہ دنیا انگشت بدنداں ہے ۔
مسلمانوں پر علم کا حاصل کرنا فرض قرار دیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ طلوعِ اسلام کے بعد مسلمانوں نے مختلف میدانوں میں جو کار ہائے نمایاں انجام دئے وہ تاریخ کے صفحات پر رقم ہیں ۔ اسلام نے دیگر شعبوں کی طرح حصولِ علم کے معاملہ میں مرد و زن کے مابین کوئی تفریق نہیں کی۔ نبی ِکریم ﷺ کاارشاد ہے۔:
طلب العلم فریضۃُ علی کلِ مسلم و مسلمۃ
علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان (مرد اور عورت )پر فرض ہے۔
اس معاملہ میں دینی و دنیاوی علوم کی بھی تخصیص نہیں رکھی گئی ۔ مسلمان برائیوں سے محفوظ رہے اس لئے مسلمان کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ برائیوں سے بھی آگاہ رہے ۔
ماں کی گود کو انسان کی پہلی درسگاہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں وارد ہوتے ہی اس کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ ماں کی آغوش سے شروع ہو جاتا ہے اور تا دمِ آخر جاری رہتا ہے ۔ بچّے کی صحیح تعلیم و تربیت کا فریضہ ماں ہی بخوبی انجام دے سکتی ہے ۔ یہاں ہمیں ایک نکتہ یہ بھی ملتا ہے کہ استاد کے اندر بھی اگر ماں کی سی شفقت ، محبّت اورطالبِ علم کی خیر خواہی کا جذبہ موجود ہو توتعلیم کے تمام مراحل آسان اور پر اثر ہو جاتے ہیں ۔
عام طور ہر کہا جاتا ہے کہ
ہر کامیاب شخص کے پیچھے کسی عورت کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے ۔
خواہ وہ سکندرِ اعظم کی ماں ہویا شیواجی کی جیجا ماتا ۔انگریزی زبان میں بھی اسی مفہوم کو ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے۔
The hands that rock the craddle,rule the world
جو ہاتھ جھولا جھلاتے ہیں، حقیقتاًوہی ہاتھ اس دنیا پر راج کرتے ہیں۔
تاریخ کے صفحات اس قول کی تصدیق کرتے ہیں۔ آج دنیا کے حالات پر نظر ڈالئے تو پتہ چلے گا کہ دنیا کیسے کیسے انقلابات سے دوچار ہے ۔ ان حالات میں خواتین کی ذمہ داریاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں ۔
ان کے لئے گھریلو فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ دنیا جہاں کے حالات سے با خبر رہنا بھی لازمی ہو گیا ہے ۔
یوں تو ہر مومن کے لئے لازمی ہے کہ وہ ہر خطرہ سے باخبر ہواور ایمان سمیت اپنی حفاظت خود کرے ۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ مومن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاتا ۔
ایک انگریز کا قول ہے
:
An intelligent person is the one
whose feet are planted in his
An intelligent person is the one
whose feet are planted in his
country and his eyes
should survey the whole world.
should survey the whole world.
یہ وقت کا تقاضا ہے کہ عورتیں بھی تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوں، اسلئے کہ تعلیم انسان کو بہترین زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتی ہے ۔
دنیا کی عظیم المرتبت شخصیات نے خواتین کے مرتبہ کو سمجھا اور ان کا احترام کیا۔ .
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ ماں کے قدموں تلے جنّت ہے ۔
یہ سچ ہے کہ عورت کو دنیا میں مختلف کردار نبھانے ہوتے ہیں ۔ کبھی ماں بن کر تو کبھی بہن کی صورت میں ، کبھی بیوی کے روپ میں اور کبھی بیٹی بن کران تمام مدارج میں اس کے ذمّہ داریاں بھی بدلتی رہتی ہیں ۔ اسے نئے نئے حالات سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔ ان تمام مدارج سے کامیابی کے ساتھ گزرنے کے لئے عورت کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے ۔ اگر عورت علم اور انسانیت سے عاری ہو تو اس کی موجودگی اچھّے خاصے گھر کو جہنّم میں تبدیل کر سکتی ہے اور اس کا اعلیٰ کردار پورے خاندان کے لئے نعمت اور برکت ثابت ہو سکتا ہے اس معاملہ میں تعلیم موثر کردار ادا کرتی ہے ۔
دنیا کی عظیم المرتبت شخصیات نے خواتین کے مرتبہ کو سمجھا اور ان کا احترام کیا۔ .
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ ماں کے قدموں تلے جنّت ہے ۔
یہ سچ ہے کہ عورت کو دنیا میں مختلف کردار نبھانے ہوتے ہیں ۔ کبھی ماں بن کر تو کبھی بہن کی صورت میں ، کبھی بیوی کے روپ میں اور کبھی بیٹی بن کران تمام مدارج میں اس کے ذمّہ داریاں بھی بدلتی رہتی ہیں ۔ اسے نئے نئے حالات سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔ ان تمام مدارج سے کامیابی کے ساتھ گزرنے کے لئے عورت کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے ۔ اگر عورت علم اور انسانیت سے عاری ہو تو اس کی موجودگی اچھّے خاصے گھر کو جہنّم میں تبدیل کر سکتی ہے اور اس کا اعلیٰ کردار پورے خاندان کے لئے نعمت اور برکت ثابت ہو سکتا ہے اس معاملہ میں تعلیم موثر کردار ادا کرتی ہے ۔
ہمارے عہد میں جو سماجی مسائل اور بہروپ جنم لے رہے ہیں خواہ وہ کسی مذہب و ملّت سے تعلق رکھتے ہوں اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگوں کی تعلیم و تربیت میں کہیں نہ کہیں کوئی خامی ضرور رہ گئی تھی انسان صحیح تعلیم کے
بعد ہی انسان بنتا ہے ورنہ تعلیم اس کے لئے الزام بن کر رہ جاتی ہے
تعلیمِ نسواں Written by Tanzeel
Reviewed by Unknown
on
21:49
Rating:
Reviewed by Unknown
on
21:49
Rating:

No comments: